پیر 19 اکتوبر 2026 - 00:42
بچوں میں دینی علم اور معرفتِ اہل بیتؑ کے فروغ کا منفرد انداز؛ کولکاتا میں کوئز مقابلے کا انعقاد

حوزہ/ ہندوستان کے شہر کولکاتا میں حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا طیب علی انصاری نے بچوں میں دینی تعلیم، معرفتِ اہل بیتؑ اور علم حاصل کرنے کا شوق پیدا کرنے کے لئے ایک منفرد کوئز مقابلے کا اہتمام کیا، جس میں کم عمر بچوں اور بچیوں نے جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیا۔ اس اقدام کا مقصد دینی تعلیم کو دلچسپ اور مؤثر انداز میں نئی نسل تک پہنچانے کے ساتھ بچوں میں خود اعتمادی، علمی جستجو اور سیکھنے کا جذبہ بیدار کرنا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ہندوستان کی ریاست مغربی بنگال کے شہر کولکاتا میں مولانا طیب علی انصاری نے نئی نسل میں دینی شعور، علم سے دلچسپی اور معرفتِ اہل بیتؑ کو فروغ دینے کے لئے ایک منفرد تعلیمی سرگرمی کا اہتمام کیا۔ حضرت سیدہ زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے منعقد ہونے والے اس خصوصی کوئز مقابلے میں کم عمر بچوں اور بچیوں نے جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیا۔

بچوں میں دینی علم اور معرفتِ اہل بیتؑ کے فروغ کا منفرد انداز؛ کولکاتا میں کوئز مقابلے کا انعقاد

آج کے دور میں بچوں کی ذہنی و فکری تربیت کے لئے ایسے طریقوں کی ضرورت ہے جو انہیں محض معلومات یاد کرنے تک محدود نہ رکھیں، بلکہ علم حاصل کرنے، سوال کرنے، سوچنے اور اپنی صلاحیتوں کو پہچاننے کا حوصلہ بھی دیں۔ اس تناظر میں کوئز مقابلے جیسی سرگرمیاں بچوں کے لئے سیکھنے کا ایک دلچسپ موقع فراہم کرتی ہیں، جہاں دینی تعلیم کو ایک بامقصد اور دل چسپ انداز میں ان کے سامنے پیش کیا جا سکتا ہے۔

اس پروگرام کا مقصد حضرت سیدہ زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کی سیرت، صبر و استقامت، ایثار اور عظیم کردار سے بچوں کو آشنا کرنا اور ان کے اندر اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات کو سمجھنے کا شوق پیدا کرنا تھا۔ مقابلے کے دوران بچوں سے دینی معلومات، سیرتِ اہل بیتؑ اور اسلامی تعلیمات سے متعلق سوالات پوچھے گئے۔ بچوں کی بھرپور شرکت نے اس بات کو نمایاں کیا کہ اگر دینی موضوعات کو ان کی عمر، ذہنی سطح اور دلچسپی کے مطابق پیش کیا جائے تو وہ انہیں شوق سے سیکھ سکتے ہیں۔

بچوں میں دینی علم اور معرفتِ اہل بیتؑ کے فروغ کا منفرد انداز؛ کولکاتا میں کوئز مقابلے کا انعقاد

پروگرام کی ایک اہم خصوصیت یہ تھی کہ بچوں کو اپنی معلومات کا اظہار کرنے، سوالات کے جواب دینے اور دوسروں کے ساتھ ایک صحت مند علمی مقابلے میں حصہ لینے کا موقع ملا۔ اس طرح کی سرگرمیاں بچوں میں خود اعتمادی، ذہنی یکسوئی، غور و فکر اور مزید سیکھنے کا جذبہ پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔ انعامات اور اسناد کی تقسیم بھی بچوں کی حوصلہ افزائی کا ذریعہ بنتی ہے اور انہیں آئندہ علمی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی ترغیب دیتی ہے۔

مقابلے کے اختتام پر پہلی، دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے والے بچوں میں انعامات تقسیم کئے گئے، جبکہ دیگر شرکاء کی حوصلہ افزائی کے لئے انہیں بھی اسناد اور تحائف پیش کئے گئے۔ اس اقدام کے ذریعے بچوں کو یہ پیغام دیا گیا کہ علم حاصل کرنے کی کوشش، سیکھنے کا شوق اور علمی سرگرمیوں میں شرکت اپنی جگہ اہمیت رکھتے ہیں۔

بچوں میں دینی علم اور معرفتِ اہل بیتؑ کے فروغ کا منفرد انداز؛ کولکاتا میں کوئز مقابلے کا انعقاد

اس موقع پر مولانا طیب علی انصاری نے کہا کہ حضرت سیدہ زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کی زندگی صبر، ایثار، حق گوئی اور خداوند متعال پر غیر متزلزل ایمان کا عظیم درس دیتی ہے۔ آپؑ کی سیرت نئی نسل کی تربیت کے لئے ایک مؤثر نمونہ ہے۔ انہوں نے اس نوعیت کے پروگراموں کو بچوں میں دینی معلومات اور اخلاقی اقدار پروان چڑھانے کے لئے اہم قرار دیا اور مستقبل میں بھی ایسی سرگرمیوں کے تسلسل کی امید ظاہر کی۔

دینی تعلیم کو بچوں کی دلچسپی سے جوڑنے کی ضرورت

بچوں میں دینی شعور پیدا کرنے کے لئے صرف نصیحت یا روایتی تدریسی طریقے کافی نہیں، بلکہ ضروری ہے کہ انہیں ایسے مواقع فراہم کئے جائیں جن میں وہ خوشی، دلچسپی اور عملی شرکت کے ذریعے دین کو سمجھ سکیں۔ کوئز مقابلے، سیرت سے متعلق سوال و جواب، علمی نشستیں اور تربیتی سرگرمیاں اس سلسلے میں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہیں۔

خصوصاً معرفتِ اہل بیت علیہم السلام کے میدان میں بچوں کو ان مقدس ہستیوں کی زندگی کے واقعات سے روشناس کرانے کے ساتھ ان کے اخلاق، کردار، علم، عبادت اور انسانی اقدار کو بھی ان کی روزمرہ زندگی سے جوڑنا ضروری ہے، تاکہ دینی تعلیم محض کتابوں میں پڑھی جانے والی معلومات نہ رہے، بلکہ ان کی سوچ، کردار اور عملی زندگی کا حصہ بن سکے۔

بچوں میں دینی علم اور معرفتِ اہل بیتؑ کے فروغ کا منفرد انداز؛ کولکاتا میں کوئز مقابلے کا انعقاد

واضح رہے کہ کولکاتا میں مولانا طیب علی انصاری کی جانب سے منعقد کیا جانے والا یہ کوئز مقابلہ اسی ضرورت کی جانب توجہ دلاتا ہے کہ نئی نسل کی دینی و فکری تربیت کے لئے عمر کے تقاضوں کے مطابق دل چسپ اور حوصلہ افزا طریقے اختیار کئے جائیں۔ ایسے پروگرام بچوں کے اندر علم حاصل کرنے کا شوق بیدار کرنے، ان کی صلاحیتوں کو نکھارنے اور انہیں اپنی دینی و تہذیبی شناخت سے قریب کرنے کی ایک مفید کوشش بن سکتے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha